را
أ تجْری لَْھلز خَلِدينَ فیھا ابا ذِكَ افو الیم
2+ ]۲3باطَ3٥ط -100(
گے ۱۱٥۰٤۲۵8٥٢ 00117 - 756 )67 ٢١ء_ ث۔
حضرت یاسر بن عامر رضی اللہ عنہ کی سیرت
ابتدائی زندگی اور مکہ کی ہجرت
حضرت یاسر بن عامر رضی الله عنہ نبی کریم قِل کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے جنہیں السابقون الأولون کہا جاتا ہے
امام ابن سعد نےالطیقات الکبریٰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت یاسر رضی الله عنہ مکہ کے رہائشی نہ تھےە بلکہ وہ یمن
سے اپنے گمشدہ بھائی کی تلاش میں مکہ آئے تھے۔ وہ اپنے دو بھائیوں مالک اور حارث کے ہمراہ سفر پر نکلے؛ مگر بھائی کو تلاش نہ کر سکے۔ مایوس ہو کر مالک اور حارث واپس یمن چلے گئے لیکن حضرت یاسر رضی الله عنہ مکہ میں ہی مقیم ہو گئے کیونکہ انہیں اس شہر میں سکون و اطمینان محسوس ہوا۔
چونکہ وہ ایک اجنبی تھے اس لیے مکہ میں قبائلی تحفظ حاصل کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے بنو مخزوم کے سردار ابو خلیقۃ کی شارت مال کے جو ا ولت کا رو ام تھا اور اس کے ساتو خلفت ونذاری کر کے مک مین فا ممکن پنیا
۲38٥ 739
ابو حذیفہ نہ صرف حضرت یاسر رضی الله عنہ کے قبائلی سرپرست تھے بلکہ حضرت سمیہ بنت خیاط رضی الله عنہا
کے مالک بھی تھے جو ایک غلام خاتون تھیں۔ جب ابو حذیفہ نے حضرت یاسر رضی الله عنہ کے کردار کو دیکھاء تو انہوں نے حضرت سمیہ رضی الله عنہا سے ان کا نکاح کرایا۔ نکاح کے بعد ابو حذیفہ نے دونوں کو آزاد کر دیا اور مالی لحاظ سے ان کی کفالت بھی جاری رکھی۔ ان کے ہاں ایک بپٹے کی ولادت ہوٹیہ جن کا نام عماربن پاسر رضی الله عتہ تھاء اور یہ خاندان سکون کے ساتھمکہ میں زندگی گزارنے لگا۔
اسلام قبول کرنا
ذکر کیا ہے کہ حضرت عمار اور حضرت سمیہ رضی الله عنہما ان ابتدائی سات افراد میں شامل تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔۔-حضرت عمار چھٹے؛ اور حضرت سمیہ ساتویں نمبر پر۔ حضرت یاسر رضی الله عنہ غالباً ان کے فورا بعد مسلمان ہوئے اور ابتدائی مسلمانوں میں شامل ہو گئے اگرچہ ان کی بیوی اور بیٹے کی بنسبت حضرت یاسر کچھ تاخیر سے ایمان لاے۔
قریش کی طرف سے ظلم و ستم
جب اسلام کی دعوت مکہ میں پھیلنے لگی تو قریش کو شدید غصہ آیا۔ انہوں نے نئے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کیاء خاص طور پر ان افراد کو جن کے پاس نہ قبائلی پشت پناہی تھی اور نہ کوئی سماجی مرتبہ۔ بااثر اور دولت مند افراد کو دھمکایا گیاء جبکہ غریبء غلامء اور اجنبی لوگوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حضرت یاسرء حضرت سمیہ: اور حضرت عمار رضی الله عنہم کسی قبیلے کے تحفظ سے محروم تھے۔ اس لیے وہ رز کے خاض تھاتے بن آگئے دالکسرر و ای آخل کی سام کا سمھافاسن کان پر ظم ڈمگا ربا ان کر خئی دھوپ میں گھسیٹا جاتاء مارا پیٹا جاتاء رسیوں سے باندھا جاتا اور شدید اذیت دی جاتی۔ ان سے بار بار کہا جاتا کہ وہ
اسلام سے دستبردار ہو جائیںء مگر انہوں نے ہمیشہ انکار کیا اور ایمان پر ڈٹے رہے۔
نبی کریم قل کی دلجوئی
ایک دن نبی کریم ئل اس وقت وہاں سے گزرے جب یاسر کا خاندان سخت اذیت میں مبتلا تھا۔ آپ لٹ کو یہ دیکھ کر بہت صدمہ ہواء مگر خود بھی مکہ میں کمزور پوزیشن میں ہونے کے باعث عملی مداخلت ممکن نہ تھی۔ اس وقت آپ قٹ نے :ان کے لیے الله تعالیٰ کی طرف سے تسلی و امید کے الفاظ ارشاد فرمائے
'صبر کرو اے خاندانِ یاسر! تمہارا ٹھکانہ جنت ہے۔''
۲۹ 3
حضرت سمیہ رضی الله عنہا اور حضرت یاسر رضی الله عنہ کی شہادت
جیسے جیسے ظلم بڑھتا گیاء ابو جہل کی درندگی انتہاء کو پہنچ گئی۔ اس نے اس خاندان کو بار بار اذیت دے کر ان کا انان مٹزلژل کرتے کی کوشٹن کی جب :حضرت سمیہ رضی الد غتہا نے انکاز کیا اور پزری استقامت کے ساتھ ٹین پر قائم رہیں؛ تو ابو جہل نے غصے میں آ کر ان کو برچھے سے شہید کر دیا۔ وہ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں۔
گئے۔ وہ اسلام کے دوسرے شہید بنے۔
ان کا بیٹا حضرت عمار رضی الله عنہ زندہ رہے اور بعد میں اسلام کی خدمت کرتے رہے۔
میراث اور سبق
حضرت یاسر بن عامر رضی الله عنہ اور حضرت سمیہ بنت خیاط رضی الله عنہا اسلامی تاریخ کی ان ظیم ہستیوں میں این میں کرس کے من کے لس سی سا ار خق کرت رو کی ری با سس سرھا ک کی رھا زرف دم سی محبت میں دی گئیں؛ آج بھی صبرہ استقامت اور ایمان کی بے مثال علامت ہیں۔
الله کہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے: اور ہمیں ان کے صبر و صداقت سے سبق لینے کی توفیق دے۔ آمین۔
۲38٥ 3